بے رحم سیاست اکرم عامر کے قلم سے

بے رحم سیاست۔۔۔ ماضی کے حریف، حلیف بن گئے

مسلمانوں کی طویل ترین جدوجہد اور تحریک جس میں ہزاروںکے حساب سے ہمارے آباﺅ اجداد نے جان کی قربانیاں دیں کے نتیجہ میں پاکستان کا قیام معرض وجود میں آیا، اس ملک پر زیادہ عرصہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا جمہوری اقتدار رہا، لیکن کچھ عرصہ عسکری حکام بھی ملک کی قیادت کرتے رہے، مسلم لیگ کے اقتدار کے ادوار میں عددی الفاظ یعنی (ج)، (ع)، (ن)، (ق) و دیگر کا اضافہ ہوتا رہا، مسلم لیگ کے لیاقت علی خان 14 اگست 1947 سے 6 اکتوبر 1951 تک یعنی 4 سال 2 ماہ 2 دن تک وزیر اعظم، مسلم لیگ کے خواجہ نظام الدین 17 اکتوبر 1951 سے، 17اپریل 1953 ایک سال 6 ماہ، محمد علی بوگرا 17 اپریل 1953 سے 12 اگست 1955 یعنی دو سال تین ماہ 26 دن، مسلم لیگ کے چوہدری محمد علی 12 اگست 1955 سے 12 ستمبر 1956 یعنی ایک سال ایک ماہ تک وزیر اعظم رہے، عوامی لیگ کے حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 سے 17 اکتوبر 1957 یعنی ایک سال ایک ماہ پانچ دن، پھر مسلم لیگ کے ابراہیم اسماعیل چندی گڑھ 17 اکتوبر 1957 سے 16 دسمبر 1957 یعنی صرف ایک ماہ 29 دن، ری پبلکن پارٹی کے سر فیروز خان نون 16 ستمبر 1957 سے 7 اکتوبر 1958 یعنی 9 ماہ 21 دن، پھر مسلم لیگ کے نور الامین 7 دسمبر 1971 سے 20 دسمبر 1971 یعنی صرف 13 دن وزیر اعظم رہے۔ یہ وہ وزراءاعظم ہیں جن کے دور اقتدار میں نہ تو کسی شہری نے احتجاج کیا، اور نہ ہی ان وزراءاعظم پر کسی نے کرپشن کی انگلی اٹھائی بلکہ ان وزرائے اعظم کو عوام کا پورا اعتماد حاصل رہا۔ یہ پاکستان کے وہ دور حکومت تھے جنہیں دنیا بھر میں رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اس کے بعد ملک میں سیاست بدل گئی، اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اور بیرونی قوتوں کا عمل دخل بڑھ گیا، 14 اگست 1973 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو 5 سال کیلئے وزیر اعظم بنے مگر 5 جولائی 1977 کو 3 سال 10 ماہ 21 دن بعد ان کی حکومت رخصت ہو گئی اور ملک پر ایک طویل عرصہ تک عسکری دور رہا، جنرل ضیاءالحق کے اس دور میں بھی عوام کو انصاف ملا اور ملک میں زناءکار کو سنگسار، چور کے ہاتھ کاٹنے کی اسلامی سزاﺅں پر عمل ہوا تو جرائم کی شرح زیرو فیصد تک پہنچ گئی، جنرل ضیاءکے دور حکومت میں معیشت بھی استحکام میں رہی، 1983 میں پاکستان مسلم لیگ میں لفظ آزاد کا اضافہ ہو کر یہ مسلم لیگ آزاد بن گئی، جس کے محمد خان جونیجو 14 مارچ 1985 سے 29 مئی 1988 تک تین سال 2 ماہ 5 دن تک وزیر اعظم رہے، پھر عوام نے جوش مارا 1988 کے انتخابات میں بھٹو مرحوم کے نام پر ووٹ پڑے اور پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیربھٹو 2 دسمبر 1988 کو وزیر اعظم بنیں مگر 6 اگست 1990 کو ایک سال 8 ماہ 4 دن بعد ان کی حکومت بھی چلتی کر دی گئی، پھر مسلم لیگ کے ساتھ (ن) کا اضافہ ہوا اور 1990ءکے انتخابات میں 6 نومبر 1990 کو میاں نواز شریف (جو اب سزا یافتہ ہیں) پانچ سال کیلئے وزیر اعظم بنے، جن کی حکومت 18 جولائی 1993ءکو فارغ ہو گئی اور وہ یوں 2 سال 7 ماہ 4 دن وزیر اعظم رہے، پھر 1993ءکے انتخابات میں عوام نے پھر جوش مارا اور پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری بار 9 اکتوبر 1993ءکو 5 سال کیلئے وزیر اعظم بنیں، جنہیں 5 نومبر 1996ءکو فارغ کر دیا گیا، اس طرح 3 سال 17 دن وزیر اعظم رہیں۔ 1997ءکے انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو رد کر دیا اور مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد نواز شریف 17 فروری 1997ءکو 5 سال کیلئے دوسری بار وزیر اعظم بنے، 12 اکتوبر 1999ءکو انہیں فارغ کر دیا گیا، اس طرح 2 سال 7 ماہ 25 دن ملک پر نواز شریف (جو اب سزا یافتہ ہیں) وزیر اعظم رہے۔ پھر جنرل پرویز مشرف کا دور شروع ہوا، اس دور میں بھی ملک میں خوشحالی و استحکام رہا، اور ملک آزاد آزاد سا محسوس ہونے لگا، 13 نومبر 2002ءکو مسلم لیگ کے ظفر اللہ خان جمالی وزیر اعظم بنے جو 26 جون 2004ءتک ایک سال 7 ماہ 3 دن اپنے منصب پر فائز رہے، پھر آنا فانا مسلم لیگ میں سے مسلم لیگ (ق) بن گئی، چوہدری شجاعت حسین 30 جون 2004ءسے 26 اگست 2004 تک ایک ماہ 27 دن تک ملک کے وزیر اعظم رہے، پھر بیرون ملک سے شوکت عزیز پاکستان آئے، مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوئے اور 28 اگست 2004ءکو مسلم لیگ (ق) کی طرف سے وزیر اعظم کے منصب پر پہنچ گئے جو 15 نومبر 2007 تک اس عہدے پر براجمان رہے اور 3 سال 2 ماہ 18 دن تک حکومت کرنے کے بعد ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ شوکت عزیز جہاں سے آئے تھے اسی ملک واپس چلے گئے ، 25 مارچ 2008 کو پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی 5 سال کیلئے وزیر اعظم بنے جنہیں 19 جون کو عدالت نے سبکدوش کر دیا، اس طرح یوسف رضا گیلانی 4 سال 2 ماہ 25 دن تک اپنے منصب پر رہے، 22 جون 2012 سے پیپلز پارٹی کے ہی راجہ پرویز اشرف 14 مارچ 2013 تک 9 ماہ دو دن تک وزیر اعظم رہے، 2013 کے انتخابات میں عوام نے پھر پلٹا کھایا اور پانچ جون 2013 تو مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شرف (سزا یافتہ) کو تیسری بار وزیر اعظم نامزد کر دیا جو 28 جولائی 2017 تک ملک کے وزیر اعظم رہے اس طرح نواز شریف تیسری بار 4 سال 1 ماہ 23 دن وزیر اعظم رہے، نواز شریف کو عدالت نے سزا سنائی جس پر مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی یکم اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک 10 ماہ تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ اس طرح طویل عرصہ تک ملک پر دو سیاسی پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ باری باری حکومت کرتی رہیں۔ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو بمشکل عددی برتری حاصل

 

ہوئی اور 18 اگست 2018 کو ”تبدیلی کا نعرہ“ پر ووٹ حاصل کر کے عمران خان وزارت عظمی کے منصب تک پہنچے جو تا دم تحریر اس ملک کے وزیر اعظم ہیں، اس سے قبل طویل عرصہ تک پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے اقتدار رہے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حریف سمجھی جاتی تھیں، دونوں جماعت کے قائدین اور کارکنوں میں سخت تناﺅ پایا جاتا تھا، پیپلز پارٹی برسر اقتدار ہوتی تو (ن) لیگ کے قائدین پر کڑا وقت ہوتا تھا اور ان کے خلاف مختلف ریفرنس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہتے تھے، اس دوران (ن) لیگ کے قائدین پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے رہتے تھے، (ن) لیگ اقتدار میں آتی تو انتقامی سیاست کا یہی کھیل پیپلز پارٹی کے ساتھ کھیلا جاتا۔ (ن) لیگ پیپلز پارٹی کیخلاف ریفرنس دائر کرتی رہی لیکن اتنے طویل اقتدار میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے قائدین کیخلاف دائر ہونے والے ریفرنسز کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، 2018ءمیں تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے خاتمے اور تبدیلی کا نعرہ لگا کر بر سر اقتدار آئی تو دونوں جماعتوں کے بڑے بڑے قائدین پابند سلاسل ہوئے، اور کچھ کی جلد گرفتاریاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار میں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ، اپنے اپنے دور اقتدار میں ملک کو لوٹنے کے الزامات ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے کئی قائدین جن میں سینئر وزیر علیم خان، صوبائی وزیر سبطین خان و دیگر شامل ہیںاپنے ہی دور اقتدار میں جیل یاترا کر چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی عہدیداروں کیخلاف بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں انکوائریاں چل رہی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت کل تک ایک دوسرے کے دست گریبان تھے۔ یہاں واضح کرتا چلوں کہ سیاست بڑی بے رحم چیز ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور ان کے آباﺅ اجداد بھٹو مخالف تحریک میں پیش پیش رہے، اور مولانا فضل الرحمان بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کفرقرار دیتے رہے تھے، اسی بناءپر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کوصدارت کا ووٹ نہیں دیا تھا، اور زرداری کا اس وقت کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آزاد خیال جماعت ہے اور مولانا فضل الرحمان کے انتہا پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ بنائی ہے، آصف علی زرداری کو مولانا کی شدت پسندی بھول گئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی سے شکوے ختم ہو گئے ہیں، دونوں جماعتوں اور اپوزیشن کے دیگر رہنماﺅں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف تحریک چلانے کیلئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ بنا کر اپنا قائد مولانا فضل الرحمان کو چن لیا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت کو شاید اپنے ورکروں پر اعتماد نہیں کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک چلا سکیں، اس لئے انہیں کل تک کے شدت پسند مولانا فضل الرحمان کی قیادت کو قبول کرنا پڑا؟ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد کب تک قائم رہتا ہے، اور حکومت کے گرگے اس کا شیرازہ بکھیرنے میں کب کامیاب ہوتے ہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہے، سیاسی ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا اکٹھ دن بدن مضبوط ہو گا، اور سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اپنا پانچ سالہ اقتدار پورا نہیں کر پائے گی اور اسے قبل از وقت گھر جانا پڑے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow