محکمہ پولیس تجربہ گاہ بن گیا ۔۔تحریر حافظ صدیق گوندل

محکمہ پولیس پنجاب تجربہ گاہ بن گیا ۔۔۔۔۔۔ تحریر حافظ صدیق گوندل

 

پنجاب حکومت میں وزیر اعلی کا انتخاب گمنام اور صحیح نہ ہونے کے بعد محکمہ پولیس میں آئی جی پولیس کی جانب سے جانبدارانہ تعیناتی کے بعد محکمہ پولیس میں خاص طور پر سرگودھا میانوالی اور دیگر اضلاع میں ٹی ایس ایز ایس ایچ اوز کی اہم سیٹوں پر اس وقت بھی محکمہ پولیس سے نادان محکمہ میں حال ہی میں بھرتی ہونے والے ٹی ایس آئی جنہوں نے ڈی کورس بھی مکمل نہیں کیا ہوا بھرتی ہونے کے بعد نادان ایس ایچ او ز کی تعیناتی قانون کے انصاف میں آڑے آنے لگ گئی نئے ایس ایچ او کی تعیناتی ٹی ایس ایز کے طور پر کئے جانے کی وجہ سے مسائل بڑھ گئے میں آج جی پولیس انعام غنی صاحب کو آئی جی پولیس پنجاب لگائے جانے کے بعد سے شہرت کی وجہ سے بہت ہی اعلی عمدہ افسر ہیں لیکن کئی سینیئر افسران طارق مسعود یاسین صحاب سمیت دیگر کو ہٹا کر ان کی جگہ موجود اجی کی سیٹ پر حکومت کے لیے انعام غی نام کے م افسر کو بطور انعام تعینات کرنے کی وجہ سے جہاں پر مسائل زیر غور آرہے ہیں وہاں پر آئی جی کی تعیناتی کیونکہ انصاف کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر کی گئی سینئر افسران کو پس پشت ڈال کر حکومتی پسند کے مطابق انعام غنی صاحب کو آئی جی تعینات کردیا گیا اس کے بعد سے نچلے سطح پر ڈی پی اوز نے خاص طور پر سرگودھا اور میانوالی میں ٹرینی سب انسپکٹروں کو ایس ایچ او تعینات کر دیا ہے ایل میں سب انسپکٹروں کی تعیناتی کے بعد انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے لیے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں اور خاص طور پر ایسے مقدمات جن کی تفتیش انسپکٹر آسے کم لوگ نہیں کر سکتے انتہا میں اگر وہ واقعات ہو گئے تو کسی اور انسپکٹر کا انتخاب کرنے کے لئے ضلع میں دیگر سہارا حاصل کرنا پڑ سکتا ہے ملک کے موجودہ حکمران عمران خان نے میرٹ کی پالیسی کو اپنانے کے لئے بلند و بانگ دعوے کیے ہیں مگر ان کے کردار اور موجودہ حالات پر پر پاکستان کے غیور شہری پریشان دکھائی دے رہے ہیں عمران خان وزیراعظم پاکستان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلی تو بنا دیا اور اس سے قابل ترین تین سائنسدان وزیر اعلی بننے سے محروم رہ گئے ان نامسائد حالات کو پس پشت ڈال کر پولیس جو کہ ایک اہم محکمہ ہے اس میں سے بھی مرضی کا کمانڈر ہر پالیسی سے ہٹ کر لگا دیا گیا جس کی تعیناتی وجہ سے سینئرز افسران میں کام کرنے سے انکار کردیا موجودہ حالات میں عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ نواز گروپ اور عمران گروپ کے مابین جو باتیں کی جارہی تھی وہ خواب اور فرضی تھیں اور موجودہ حکومت نے بھی جس حلف نامے کی پاسداری کرتے ہوئے ہوئے الزام وہی کام کیا تھا جو پچھلے حکمرانوں نے کیا ہےت اس میں پوری نہیں اتر رہی عوامی سماجی حلقے حکمرانوں سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ چالیس سال سے حکومت میں رہنے والے افراد میاں صاحبان کو جس بنیاد پر پر حکومت سے فراغت بدلائی گئی اور آپ کی حکومت نے جس کا بلند و بانگ دعوہ کیا اس میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا جیسے ہی پرانے نواز حکمرانوں سے ایسے ہی عمران حکومت بھی کر رہی ہے اور اگر محکموں کو ان پی ایس او پیز کے مطابق کام نہ کرنے دیا گیا تو تو انجام خطرناک ہوں گے جس کے تمام طارق حکمران ذمہ دار ہوگی جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سابقہ رویوں پر چل کر اپنی تسکین اور انا کو پورا کر رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow