سیلوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: ذیشان حیدر

روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کا سمندر اس وقت کرونا وائرس کے خوف سے لرزاں ہے جس کی موج میں دنیا کے ہر رنگ، ہر نسل، ہر قوم او ر ہر مذہب کے لو گ شامل ہیں اس وائرس کی چنگاریاں پوری دنیا میں شعلہ افروز ہو چکی ہیں انسانی حیات سخت خوف و ہراسیت کا شکار ہے۔ اربوں انسانی جانیں اس کے آہنی شکنجے کی جکڑ میں ہیں۔ دنیا بھر کے انسانی رسم و رواج، اقدار، سماجی روایات، تہذیب و تمدن یکسر بدل چکے ہیں دنیا کا نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے۔ اس خطر ناک اور مہلک وباء کو ختم کرنے کیلئے انسانی تدابیر ناکام اور بے اثرہو چکی ہیں انسان ترقی کے میدان میں اس حد تک آگے جا چکا ہے کہ چاند تک جا پہنچا مگر اربوں ڈالرز صحت پر خرچ کرنے والے ترقی یافتہ ممالک اس وائرس کو بے اثر کرنے کیلئے ویکسین تک ایجاد کرنے میں مکمل بے بس نظر آتے ہیں۔ بنی نوع انسان پر ترقی کی دھونس جمانے والے ترقی یافتہ ممالک کرونا کی ویکسین متعارف کروانے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں لیکن چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا کوئی ملک یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ ویکسین بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ سارے ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا علاج صرف اور صرف احتیاط اور سماجی فاصلہ ہے۔ کرونا وائرس کی ساخت کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف قسم کے مفروضوں پر مبنی قیاس آرائیاں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت ہیں کوئی اسے چین اور امریکہ کی معاشی لڑائی قرار دیتا ہے تو کوئی G5 ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کرنا قرار دیتا ہے۔ اربوں انسانوں پر حکمرانی کے دعوے دار سپر پاور ممالک ایک دوسرے پر کرونا وائرس کی ایجاد کے الزامات لگا رہے ہیں لیکن ابھی تک حقیقت آشکار نہیں ہوئی کہ یہ وائرس کیسے پیدا ہوا اور کیا یہ بڑے ملکوں کی معاشی جنگ ہے یہ سوال حل طلب ہے۔دنیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ میں تیل کی قیمت چالیس سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے کیوں کہ تیل کی ڈیمانڈ میں 3کروڑ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ مئی کے کنٹریکٹ بھی منسوخ ہو گئے ہیں تیل کی کھپت نہیں کیوں کہ کرونا کی وجہ سے دنیا بھر کے کارخانے، گاڑیاں اور فلائٹ آپریشن معطل ہیں تیل کی خرید نہ ہونے کے برابر ہے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے پاس تیل رکھنے کی جگہ ہی نہیں عالمی منڈی میں مئی کیلئے 11ڈالر فی بیرل کے سودے ہو رہے ہیں۔تیل کی گراوٹ کی وجہ سے امریکہ کی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے
وطن عزیز میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26فروری 2020کو ظاہر ہوا دو ماہ ہونے کو ہیں ہمارے ہاں دیگر ممالک کی نسبت اس کا پھیلاؤ اور اموات کی شرح بہت کم ہے اگرچہ ہماری حکومت اس وائرس کے خلاف بڑی دیر بعد بر سر پیکار ہوئی لیکن اس کے با وجود ہمارے اداروں کی کارکردگی دنیا میں ایک مثال بن چکی ہے دنیا بھر میں ہمارے اداروں کی کارکردگی اور حکومتی اقدامات کو سراہا جا رہا ہے ان اداروں میں کئی ادارے تو صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں جن میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، آرمی، رینجرز، پولیس سر فہرست ہیں۔ محکمہ پولیس ہمارے ملک کا وہ محکمہ ہے جس کا امیج قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوام کی نظر میں بدترین رہا ہے کرپشن، بد اخلاقی، بد انتظامی، بد عنوانی اور نا انصافی میں یہ محکمہ پاکستان کے چند نا پسندیدہ محکموں میں ہمیشہ نمایاں رہا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک پر جب بھی کوئی مصیبت آن پڑ ی یہ محکمہ فرنٹ لائن پر ہوتا ہے اگرچہ اس محکمے کو بھی بہت سے نا مساعد مسائل کا سامنا ہے اس کے با وجود اس مصیبت کی گھڑی میں عوام کی آنکھوں کا تارہ ہے پچھلے دو ماہ کے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں، سوشل میڈیا کا ریکارڈ ملاحظہ کر لیں، الیکٹرانک میڈیا کی خبروں کا ریکارڈ دیکھ لیں، وٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹا گرام اور یو ٹیوب ہر جگہ محکمہ پولیس کے جوان آپ کو عوام کی خدمت کرتے نظر آئیں گے پاکستان کی تاریخ میں یہ معجزہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہماری عوام محکمہ پولیس کے افسران اور جوانوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی ہے،۔ عوام کو وائرس کے بارے میں شعور اور آگاہی دینے اور لا اینڈ آرڈر کی پابندی کو یقینی بنانے میں فرنٹ لائن پر ہے اسی طرح خدمت خلق کے جذبے سے سرشار پولیس کے جوان احساس پروگرام اسٹیشنز پر بوڑھی اور بیمار خواتین کو بڑی عزت اور احترام کے ساتھ وہیل چیئرز پر بٹھا کر لے جاتا دیکھ کر عوام کے دلوں میں پولیس کے لئے نفرت محبت میں بدل رہی ہے پولیس کے جذبے نے عوام اور پولیس کے درمیاں صدیوں سے پیدا فاصلے کو کم کر دیا ہے۔۔ پولیس کو کہیں بچے سیلوٹ کر رہے ہیں، کہیں ڈاکٹرز پولیس کو سیلوٹ کرتے اور پھولوں کے گلدستے تھماتے نظر آتے ہیں یہاں تک کہ پولیس کے جوانوں کے انسانیت دوست اقدامات سے متاثر ہو کر ہمارے ٹی وی چینلز پر کانسٹیبل لیول کے ملازمین کے انٹر ویوز ہو رہے ہیں۔ کوئی دوسری رائے نہیں کہ محکمہ پولیس ہر وقت عوام اور میڈیا کی تنقید کی زد میں رہتا ہے لیکن پولیس کے جوانوں اور افسران نے اپنی پیشہ وارانہ خدمات اور اخلاقیات سے اپنے ادارے کو چار چاند لگا دیئے ہیں اور اپنے ادارے پر لگے داغ کو دھو ڈالا ہے خدا کرے کہ یہ جذبہ حب الوطنی برقرار رہے۔ جیسا کہ راقم الحروف نے پاکستان کے ان چند اداروں کے جذبے اور کردار کا ذکر کیا ہے جو اس عالمی وباء سے اپنی عوام کو بچانے، شعو ر اور احتیاطی تدابیر کے بارے آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہاں کئی ایسے ادارے بھی ہیں جو ہمارے ان اداروں کے ملازمین کو نغموں اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے پیغامات کے ذریعے خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی جرات،ہمت اور جذبہ بڑھانے میں اور عوام کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں ان میں ریڈیو پاکستان جیسا قدیم قومی و ثقافتی ادارہ بھی ہے جو عوام کو ایف اسٹیشنز اور فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب پر اپنی نشریات کے ذریعے اپنے معلوماتی پروگرامز اور خبروں کے ذریعے عوام کو با خبر رکھنے کیلئے مثبت اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے ریڈیو پاکستان کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ 23ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں کرونا وائرس پر پروگرام پیش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کی معاون برائے احساس پروگرام ثانیہ نشتر نے 20 سے زائدپروگرام ریڈیو پاکستان کے پلیٹ فارم سے براڈ کاسٹ کروائے اور براہ راست عوام کو احساس پروگرام کے بارے میں معلومات بہم پہنچائیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے ثانیہ نشتر نے غریب لوگوں تک راشن پہنچانے کا اہتمام بھی کیا۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں کے غریب اور مستحق افراد کو راشن فراہم کیا گیا ۔ ہمارے ملک میں کئی ایسے پسماندہ علاقے بھی ہیں جہاں صرف ریڈیو کی نشریا ت کے علاہ کوئی دوسرا ذریعہ ابلاغ موجود نہیں۔ اسی طرح اگر پاکستان ٹیلی ویژن کا ذکر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی کچھ عرصے سے پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جس سے نہ صرف ہمارے طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں بلکہ طالب علموں کا نا قابل تلافی نقصان ہو رہا ہے حکومت پاکستان نے گھر بیٹھے طلبہ کیلئے پی ٹی وی ٹیلی سکول کی نشریات کا اہتمام کیا ہے پہلی سے سے بارہویں تک کلاسز کا آغاز کیا ہے جسے عوامی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی ہے اسی طرح ہمارے ملک کے کئی ایسے محکمہ جات ہیں جو اس عالمی وباء کے خلاف جنگ میں نبرد آزما ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے اداروں کی شبانہ روز کاوشوں اور حب الوطنی کے جذبے سے ہمارے ملک میں اس عالمی وباء کا وہ پھیلاؤ نہیں ہے جو دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہے دنیا اس وقت پاکستانی حکومت کے اقدامات اور اداروں کو تعریف کر رہی ہے۔ اس کا کریڈٹ ہمارے اداروں کو جاتا ہے ہمارے اداروں کا جذبہ وطن عزیز کیلئے سرمایہ افتخار ہے۔ محدود وسائل میں اپنی جان کو خطروں میں ڈال کر کرونا وائرس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے والے بہادر سپوتوں کو پوری قوم سیلوٹ کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow