سون سکیسر میں ہزاروں سال پرانے قلعہ کی دریافت آثار قدیمہ کی ٹیموں نے کام شروع کردیا

نوشہرہ وادی سون (نمائندہ الجلال)وادی سون سکیسر میں سینکڑوں سال قدیم قلعہ کرانگہ کے آثار کی حیرت انگیز دریافت ہوئی ہے ہایکنگ اینڈ ٹریکنگ آرکیالوجیکل سوسائٹی ، سون ویلی(HAS) کے ارکان نے وادی سون کے نواحی موضع مہوڑیاں والا کے جنوب میں ڈھوک کرانگہ اور نونڑی کے درمیان سینکڑوں سال پرانے قلعہ اور قدیم آبادی کے آثار دریافت کئے ہیں، عدنان احسن ملک، پروفیسر ملک عمران اور ان کی ٹیم نے اس قلعہ کی دریافت کی ہے عدنان احسن نے بتایا کہ اس مقام پر تقریبا دو سو سے زیادہ مختلف سائز کے کمروں کی دیواریں موجود ہیںحیرت کی بات یہ ہے کہ یہ آثار پہلی دفعہ منظر عام پر آیا ہے اس سے قبل کسی ماہر آثار قدیمہ نے ان کو رپورٹ نہیں کیا یہ قلعہ تاریخی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے ماضی کے مختلف ادارو میں مختلف حکمرانوں نے سالٹ رینج کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا اس قلعہ کی دریافت تاریخ کی گم گشتہ کڑیوں کو آپس میں ملانے میں اہم ہے انہوں نے مذید بتایا کہ قلعہ کرانگہ کا محل وقوع محفوظ پناہ گاہ اورچشمے کا قریب ہونا اور میدانوں سے رسائی ماہرین کے لئے دلچسپی کا باعث ہے حالیہ دریافت قلعہ کرانگہ میں تقریبا پندرہ ،تین ہزار کے قریب کھنڈرات موجود ہیں موجودہ دور میں قبل سو سال میں جہاں وادی کے کونے کھدروں سے مختلف آثار قدیمہ رپورٹ ہوئے قلعہ کرانگ کا گمنام رہنا اور منظر عام پر نہ آنا بہت بڑا راز ہے انہوں نے بتایا کہ قلعہ کرانگہ کی کئی سو سال تک محیط قدیم ہوسکتی ہے سوسائٹی کے ارکان اور اہل علاقہ نے محکمہ آثار قدیمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قلعہ کرانگہ کو سرکاری تحویل میں لے کر آثار قدیمہ کے اس ورثے کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow