فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 70 لاکھ افراد مر جاتے ہیں:عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹی این چین سکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق جن علاقوں کی فضا میں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار زیادہ ہے وہاں پر کورونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی شرح زیادہ ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت کے نے کہا ہے کہ فضا میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح ایسے افراد کے لیے ایک اضافی خطرہ ہے جو کووڈ۔ 19 سے بری طرح متاثر ہو رہے ہوں۔ ہارورڈ یونیورسٹی سمیت دو تازہ تحقیقات میں فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او میں صحتِ عامہ اور ماحول کے شعبہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریہ نیرہ نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے انھیں کووڈ۔ 19 کے خلاف لڑائی کی تیاری میں اِس عنصر کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہئے۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا اور فضائی آلودگی کے درمیان کسی براہ راست تعلق کو ثابت کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم کئی ممالک جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے وہاں پر کچھ ایسے مریض بھی سامنے آئے ہیں جن کو فضائی آلودگی کی وجہ سے پہلے ہی صحت کے مسائل درپیش تھے اور انھیں کورونا وائرس نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 70 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر فضائی آلودگی کے بارے میں گزشتہ برس شائع ہونے والی ورلڈ بینک کی پورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے زیادہ متاثر ہونے والے بہت سارے ممالک جنوبی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں ہیں۔ ماحول سے متعلق ڈبلیو ایچ او اور اقوامِ متحدہ کی کئی رپورٹس میں لاطینی امریکہ کے ممالک چلی، برازیل، میکسیکو اور پیرو کے کئی شہروں کو فضائی آلودگی کے لحاظ سے خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے کئی سال قبل فضائی آلودگی میں کمی ہوتی تو وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کافی کم ہوتی۔ تحقیق کے مطابق ہوا میں آلودہ ذرات کا تھوڑا سا اضافہ کووڈ۔19 سے اموات کی شرح میں15 فیصد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹی این چین سکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق اُن علاقوں میں شرحِ اموات بڑھی ہے جہاں فضا میں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار زیادہ ہے۔ پی ایم 2.5 فضا میں موجود بہت چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جن کا سائز انسانی بال کے قطر سے 13 گنا کم ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے اِن ذرات کو نظامِ تنفس کے انفیکشن اور پھیپڑوں کے کینسر کی ایک وجہ بھی قرار یا جا چکا ہے۔ یو این این کو موصولہ رپورٹ ، اٹلی میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے دوران خطے میں زیادہ اموات کی ایک وجہ فضائی آلودگی کی زیادہ شرح ہے۔ اٹلی کی یونیورسٹی آف سائنا اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بھی فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے اموات کے مابین تعلق کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ معروف جریدے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اٹلی میں فضائی آلودگی کو زیادہ اموات کی ایک اضافی وجہ کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 90 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے اور زیادہ تر ایسی آبادیاں غریب ممالک میں ہیں۔ تحقیق کے مطابق فلپائن کے سانس کی بیماریوں کے ماہر سیزر بوگاوسن نے کہا ہے کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پہلے ہی صحت کے ایسے مسائل تھے جن میں زیادہ تر کا تعلق فضائی آلودگی سے تھا۔یو این این کو موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی ڈاکٹر بھی فضائی آلودگی اور کووڈ 19 کے درمیان ممکنہ تعلق کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے اگر کسی فرد کی سانس کی نالی اور پھیپڑوں کے ٹشو پہلے ہی خراب ہو چکے ہوں تو اس کا کورونا وائرس سے بچنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ یو این این کو ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی سطح کم ہوئی ہے لیکن جیسے ہی لاک ڈان میں نرمی کی جائے گی آلودگی میں دوبارہ اضافہ کا خدشہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow