نیب ترمیمی آرڈینس تیار

کراچی (آن لائن ) نیب کے اختیار میں کمی کا ترمیمی آرڈیننس تیار کر لیا گیا ، چیئر مین نیب سے ملزموں کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تیار کردہ مسودے کے مطابق ملزموں کو90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کااختیار بھی ختم کر دیا گیا ہے، مسودے میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس دائر ہونے کئے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی ۔جبکہ نیب کیس ملزم کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا۔ سب سے بڑھ کر نیب سے 5 سال سے پرانے کیسز کھولنے کا اختیار بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ نیب 50 کروڑ سے کم کی کرپشن پر تحقیقات نہیں کر سکے گا۔ اس سے قبل نیب کے پاس اختیار تھا کہ وہ 10 کروڑ یا اس سے زیادہ کی کرپشن پر کارروائی کرے۔عوامی نمائندوں کیخلاف کارروائی کیلئے ثبوت پیش کرنا لازمی ہونگے۔واضح رہے وفاقی حکومت نے نیب قانون کا نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وزارت قانون نے نئے نیب آرڈیننس کی تیاری شروع کی گئی تھی جو اب تیار کر لیا گیا ہے ۔ نئے نیب آرڈیننس میں نیب عدالتوں کو کرپشن کے ملزمان کی ضمانت کا اختیار دیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق رضاکارانہ طور پر رقم کی واپسی پر نااہلی کی سزا تجویز کی جائے گی تھی یعنی کہ جو شخص رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرے گا اسے پانچ سال کیلئے عوامی عہدے کے لیے نااہل قراردیا جائے گا۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کو آرڈیننس کے ابتدائی خدوخال سے آگاہ کر دیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کو نئے نیب آرڈیننس پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ کہ اپوزیشن جماعتوں کو چھوٹ دی جاتی ہے یا پھر ویسے ہی انکے خلاف شکنجہ سخت رکھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow