پولیس تبادلوں اور ڈیپوٹیشن میں افسران کی مرضی ختم نئی پالیسی جاری

پولیس کے تبادلوں اور ڈیپوٹیشن میں افسران کی مرضی ختم، سٹینڈنگ آرڈر جاری

پولیس میں اب کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے افسران کے تقرروتبادلے پراعلی افسران کی مرضی نہیں چلے گی۔آئی جی نے گریڈ ایک سے سولہ کے افسران کے انٹرریجن ،،ریجن سے یونٹس، کسی دوسرے ادارے میں ڈیپوٹیشن اور ٹریفک پولیس کے تقرروتبادلے کےمتعلق دس صفحات پر مشتمل جامع سٹینڈنگ آرڈر جاری کردیئے۔ سٹینڈنگ آرڈر کے مطابق کسی بھی اہلکار یا افسر کےانٹرریجن ،ریجن ٹویونٹس،ڈیپوٹیشن پر تبادلے کیلئے متعلقہ ضلعی افسر یا ریجنل افسرکا این او سی ضروری قراردیاہے اورا علی افسران متعلقہ کانسٹیبل یا اہلکار کوخودہئیرنگ کے بعد تبادلہ کریں گے۔متعلقہ برانچ مکمل ریکارڈ پیش کرے گی انکوائری یا شوکاز کی صورت میں تبادلہ نہیں کیا جائے گا جبکہ تمام تبادلے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت ہونگے۔ یو این این کے مطابق ویڈلاک پالیسی پرپورا اترنے والےاہلکار وافسران کا متعلقہ ضلع میں تبادلہ کیاجائے گا۔ کانسٹیبل اورہیڈکانسٹیبل اپنےضلع سے مستقل دوسرے ضلع جاناچاہتاتودس سالہ سروس ضروری ہے ،جبکہ اےایس آئی ےسب انسپکٹرایک سےمستقل دوسرےریجن جاناچاہتاتوبھی دس سال سروس ضروری ہے۔سب انسپکٹررینک کےکوئی افسرسپیشل برانچ،سی ٹی ڈی یا ٹریفک میں 3سال نوکری کرچکا ہوتو انسپکٹر کے عہدے پرترقی کے بعد پی سی نہیں بھیجا جائے گا۔ یو این این کے مطابق جونیئر رینک کے افسر یا اہلکار شعبہ ٹریننگ میں 3سال نوکری کرچکےہیں انہیں پی سی نہیں بھیجاجائیگا۔پولیس سےکسی دوسرے محکمے جانا ہوگا تو اسکی ڈیپوٹیشن 3 سال سےلیکر5سال تک ہوگی۔پنجاب پولیس میں چھوٹے اہلکاروں وافسران کو تقرروتبادلوں میں ہمیشہ ابہام پایا جاتا تھا جس کوختم کرنے کیلئےڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اشفاق خان نے کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک افسران کیلئے مکمل طریقہ کار تیارکیا جس کو آئی جی پنجاب نے منظور کرتے ہوئے سٹینڈنگ آرڈر کی شکل میں جاری کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow