اسٹیٹ بینک نے 236 ارب کی قرض وصولی موخر کردی

بینکوں نے ریلیف پیکج کے تحت 236ارب روپے کے قرضے کی وصولی موخر کردی

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر بینکوں اور مالیاتی اداروں نے ریلیف پیکج کے تحت 236 ارب روپے کے قرضے کی وصولی موخر کر دی ہے۔ یو این این کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے قرض حاصل کرنے والوں کے لئے جامع ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے تاکہ کورونا کی وبا سے متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ پیکج کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں نے صارفین سے حاصل کئے گئے قرضوں کی اصل رقم کی وصولی موخر کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس ضمن میں اصل رقم کی وصولی ایک سال کے لئے موخر کر دی گئی ہے تاہم قرض حاصل کرنے والے صارفین متفقہ شرائط و ضوابط کے تحت سود ادا کرنے کے پابند ہیں۔ قرض کی اصل رقم کی وصولی کو موخر کرنے سے قرض حاصل کرنے والوں کی کریڈٹ ہسٹری متاثر نہیں ہوگی اور اس حوالے سے کریڈ بیورو کے اعدادو شمار میں ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اندازوں کے مطابق آئندہ سال تک واجب الادا قرضوں کا حجم 4700 ارب روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔ یو این این کے مطابق ایسوسی ایشن نے قرض حاصل کرنے والے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اصل رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی سہولت سے استفادہ کے لئے 30 جون 2020ء تک متعلقہ بینکس اور مالیاتی اداروں کو تحریری درخواست دیں۔ ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق 24 اپریل 2020ء تک 3 لاکھ 3 ہزار قرض حاصل کرنے والے اصل رقم کی بعد ازاں ادائیگی کے اہل ہیں اور ان کی واجب الادا رقم 236 ارب روپے بنتی ہے۔ ریلیف پیکج سے استفادہ کرنے والوں میں زیادہ تر چھوٹے قرض حاصل کرنے والے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow