ٓٓافسر شاہی کی غنڈہ گردی اور صحافیوں کااستحصال۔۔۔

آج کا دور بھی عجیب دو ر ہے کہ سچ بولنے والے کو تو گھر والے بھی اچھا نہیں سمجھتے ہیں،تحربہ کرکے دیکھ لیں کہ اگر ہم گھر میں سب کچھ سچ ہی بولنا شروع کر دیں تو 5دن سے زیادہ گھر میں بھی نہیں گزار سکتے آپ کو گھر والے ہی پاگل قراد دے دیں گے آپ اپنے آس پاس دیکھیں تو کسی بھی دفتر میں ایمانداری سے کام کرنے والے کی کرسی دفتر کے کونے میں ملے گی دفترکا ہر فرد اس سے عجیب برتاؤ سے پیش آتا نظر آئے گا۔ ہم کس حد تک گر گے ہیں کہ جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اتنا ہی عزت دار ہے، صحافت مقدس پیشہ ہے سچ لکھنے اور سچ عام آدمی تک پہنچانے کے لیے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بیان سے باہر ہے، اپنے گھر خاندان اور جان تک کا نذرانہ دے کر سچ کی روایات کو جاری رکھنا پڑتاہے، ہمارے معاشرے میں ہر خرابی کا ذمہ دار ہر کوئی میڈ یا اور اس کے کارکنان کو ہی ٹھہراتا ہے لیکن ہم قلمی مزدوروں کے مسائل پر کبھی توجہ نہیں دی جاتی،بلکہ سرمایہ دار،سیاست دان اور کرپٹ بیوروکریٹس ہمیشہ قلمی مزدوروں کو سچ لکھنے پر انتقامی کاروائیوں کے ذریعے نقصان پہنچاتے رہے ہیں،افسوس کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے خاص طور پر چھوٹے اضلاع تحصیلوں اور قصبہ جات کے قلمی مزدور ایسی کاروائیوں کا سامنا قیام پاکستان سے لے کر آج تک کرتے آرہے ہیں۔گزشتہ روز جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے اسسٹنٹ کمشنر زریاب ساجد نے 16سال سے قائم تحصیل پریس کلب (رجسٹرڈ) کی عمارت کو بلدیہ جتوئی کے ہمراہ پر یس کلب میں موجود صحافیوں کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے باہر نکال کر پریس کلب کا سامان سرکاری ٹرالی میں ڈال لیا اور ٹریکٹر کے ذریعے عمارت کوگرا دیا سرکاری محافظ یہاں پر ہی نہیں رکے بلکہ سوشل میڈیا کی سرکاری آئی ڈی پر جتوئی کے سینئر صحافیوں پر سنگین الزامات بھی لگادیئے 2004ء میں اس وقت کی انتظامیہ نے صحافیوں کی فلاح وبہبود کے پیش نظر پریس کلب تعمیر کروایا تھا جہاں ہمیشہ عوامی فلاح اور قلم کے ذریعے مسائل کی نشان دہی ہوتی رہی ہے، قلم کے ذریعے مسائل حل کروانے والے صحافیوں کے ساتھ سرکاری شہنشاہ کی غنڈہ گردی کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خاں بزدار کے پڑوس میں ایسا واقعہ کرپٹ بیوروکریسی کی بالا دستی سمیت کئی سوالات کوجنم ضرور دیتا ہے واقعہ کے بارے میں جب مجھے علم ہوا تومیں نے خود سے اس کے مختلف پہلووں پر توجہ دی تو پتا چلا کہ جب سے لاک ڈان ہوا ہے اس وقت سے ہی تحصیل جتوئی کی انتظامیہ نے عوامی ریلیف کا کوئی کام نہیں کیا بلکہ کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے، اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر میں فوٹو سیشن میں مصروف عمل نظر آتا رہاہے جس پر تحصیل پریس کلب (رجسٹرڈ) کے صحافی مسائل کی نشان دہی مختلف قومی اخبارات کے ذریعے کررہے تھے جس پر صحافیوں کو اسسٹنٹ کمشنر آفس سے دھمکیوں کا بھی سامنا تھا لیکن صحافیوں نے اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے سچ پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھی جس پر سرکاری شہنشاہ نے طعیش میں آکر بغیر نوٹس دئیے بلدیہ کے عملہ کو ساتھ لیا اور پریس کلب پر دھاوا بول دیا۔جب سینئر صحافیوں نے احتجاج کیا تو وقت کے شہنشاہ نے کہا کہ آپ انتظامیہ کے خلاف اور خبریں لگائیں،بلدیہ کی زمین میری ہے اس سرکاری زمین پر پریس کلب نہیں رہنے دوں گا کیونکہ اس کی الاٹمنٹ پریس کلب کے نام پر نہیں ہے۔ جبکہ پریس کلب 16سال قبل اس وقت کی انتظامیہ نے بنایا تھا اور صحافیوں کے حوالہ کیا تھا۔ اگر اسسٹنٹ کمشنر کی یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے تو نوٹس دینا تو ضروری بنتا تھا 16سال میں ایک بھی نوٹس نہیں دیا گیا۔یہاں پر مسئلہ ناجائز قبضہ کا نہیں ہے نہ ہی کسی نے اس زمین پر قبضہ کیا تھا بلکہ یہاں مسئلہ سچ لکھنے کا ہے جو اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کرپشن اور بدانتظامی کی خبروں پر توجہ دے کر عوامی مسائل کو حل کرنے اور لوٹ مار کا خاتمہ کرنے کے بجائے انتقامی کاروائی تمام تر سوالوں اور خبروں کے سچ ہونے کی خود ہی دلیل ہے،اپنے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اہلکاروں کو غیر قانونی حکم دے کر صحافیوں کے خلاف کاروائی بھی صحافیوں کے موقف کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اگر صحافیوں نے حق وسچ کے مطابق خبریں شائع نہیں کی تھیں تو ان کو کوئی قانونی نوٹس دیا گیا تھا؟ بلکہ نوٹس دینے کے بجائے پریس کلب کا پتہ ہی صاف کرنا خود ایک جواب ہے قلم کار طبقے کی سچائی کا۔اگر شہر کے سرکاری شہنشاہ نے قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی کی ہے تو پوری تحصیل میں کیایہ واحد قبضہ گروپ تھا؟ اسسٹنٹ کمشنر جتوئی کی سوشل میڈیا آئی ڈی پر شہنشاہ کا بیان چیخ چیخ کر قلم کاروں کوسچا کہہ رہاہے۔ اگر بیان میں لگائے گئے الزامات سچ پر مبنی ہیں تو پہلے کاروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گی کیوں ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکا، مسلسل خبروں کی اشاعت کے بعد ایسی کاروائی اور الزامات دراصل صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ایک کڑی ہے جتنی کوشش صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے کی جارہی ہے اگر یہ ہی کوشش عوامی مسائل حل کرنے اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے کی جاتی تو تحصیل جتوئی مثالی تحصیل بن جاتی، تحصیل جتوئی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے پڑوس میں واقع ہے ڈویژن بھی ایک ہی ہے،آئے روز وزیراعلیٰ صاحب اپنے لاؤلشکر کے ہمراہ ان اضلاع کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں تحریک انصاف کے دعووں وعدوں اور انصاف کی حکمرانی کا علم تو تب ہو گا جب سرعام قلم کار طبقہ سے غنڈہ گردی کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جتوئی کے خلاف انصاف کے مطابق کاروائی ہوگی۔ انصاف کے حصول کے لیے علاقائی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان سمیت دیگر صحافتی تنظیمیں جدوجہد کررہی ہیں۔ مظفر گڑھ کے معروف صحافی رضوان الحسن قریشی، انصر آفتاب، نذر جتوئی، عاشق بھٹی، کامران بھٹی وغیر ہ اس جدوجہد میں پیش پیش ہیں حق سچ کی جدوجہد کا اجر تو اللہ کی ذات نے ہی دینا ہے لیکن تحریک انصاف کے وسیم اکرم کے انصاف کا امتحان ہے دیکھتے ہیں کہ پورے پنجاب کی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کے اپنے علاقہ میں بھی انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے یا پھر ابھی امید کی کرن باقی ہے۔
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow