کورونا مریضوں کے علاج کیلئے سرگودہا یونیورسٹی میں پروٹیکٹ پراجیکٹ کا آغاز کردیا گیا ڈاکٹر جاوید اکرم، پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق



سرگودہا (فیصل عزیز شیخ سے ) کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کے ممکنہ علاج کیلئے سرگودہا میں تحقیقی ٹرائل پروٹیکٹ پراجیکٹ کا آغاز کردیا گیا اس ضمن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر جاوید اکرم نے گذشتہ روز یونیورسٹی آف سرگودہا کے سنڈیکیٹ ہال میں سرگودہا میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ کی اور ٹرائل پروٹیکٹ کیلئے پہلا سائٹ وزٹ کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر سرگودہا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد،پرنسپل ڈاکٹر حمیرا اکرم‘ رجسٹرار ڈاکٹر فہد اللہ‘ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر غلام شبیر و دیگر بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ سرگودہا میں ٹرائل پروٹیکٹ کیلئے میڈیکل کالج کے پروفیسرز اور ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹرز مل کر تحقیق کریں گے اور کورونا وائرس کے بدلتے ہوئے ری ایکشن اور مریضوں پر اس کے اثرات کو جانچا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عید شاپنگ کی ٹرانسمیشن کا رزلٹ 10 روز بعد آئے گا۔ تاہم اب جو مریض آرہے ہیں وہ زیادہ سیریس ہیں اور زیادہ تر وبائی امراض کے پھیلاؤ میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر اب ہمیں میڈیکل کیپسٹی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عید کے بعد ہسپتالوں میں رش بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج مختلف دواؤں سے کیا جارہا ہے جس میں اینٹی وائرل‘ اینٹی بائیوٹیک جبکہ اینٹی باڈیز ماڈل بھی شامل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر اکرم نے کہا کہ پلازمہ تھراپی کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور ہر ڈسٹرکٹ ہسپتال میں کورونا سے صحتیاب مریضوں کا پلازمہ ضرور لیا جائے تاکہ اس سے دیگر انسانی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ تاہم اس تھراپی کو ایسے مریضوں پر استعمال کیا جائے جو پہلے کسی اور بیماری میں مبتلاء نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین بنانے کے سلسلے میں بہت تھوڑا کام ہورہا ہے۔ تاہم آکسفورڈ اور چینی یونیورسٹیز کے اشتراک سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اس پر کام کررہی ہے اور کنسورشیئم کے تحت مقامی سطح پر 9یونیورسٹیوں سے ملکر بھی کام کررہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹرز کو مکمل ٹریننگ دی جائے اور جو ڈاکٹرز فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں ان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کلونجی سے بھی کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں پیش رفت پر تحقیق کررہے ہیں اور امید ہے کہ اس بیماری کو جڑ سے پکڑ اجائے گا کیونکہ اب اس وائرس کے ساتھ رہنا پڑے گا جس کا واحد طریقہ احتیاط اور سماجی دوری ہے۔ اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر حمیرا اکرم نے بریفنگ میں بتایا کہ سرگودھا میڈیکل کالج میں 80بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال قائم کیا گیاہے جبکہ میڈیکل اورزرعی کالجز میں قرنطینیہ سنٹر زبھی قائم کئے گئے ہیں اور اب ٹرائل پروٹیکٹ کے تحت سرگودہا میں کورونا وائرس کے مریضوں کو رجسٹر کرنے کے عمل کا آغاز کردیا جائے گا۔ میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر سیف اللہ گورائیہ نے بتایا کہ سرگودہا میں کورونا کے مریضوں کو مختلف ادویہ سے زیادہ افاقہ ہوا ہے اور یہاں اموات کی شرح کم ہے یہ مشاہدات وتجربات دیگر یونیورسٹیوں سے شیئر بھی کئے جائیں گے۔ تاہم لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد وائرس کا ردعمل شدید ہے اور اب مریض تشویشناک حالت میں آرہے ہیں جن کو فوری وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ فوکل پرسن برائے کورونا ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ نے کہا کہ پہلے دوماہ میں سرگودہا میں مریضوں کی فوری صحت یابی دیکھنے میں آئی لیکن اب صورتحال پیچیدہ ہوتی جارہی ہے اور لوگ احتیاط کم کررہے ہیں جس کے خوفناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس موقع پر دیگر ڈاکٹرز نے بھی اپنی تجاویز دیں اور اپنے تجربات و مشاہدات میٹنگ میں شیئر کئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کہا کہ کورونا پر تحقیق کیلئے سرگودہا یونیورسٹی کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ساتھ الحاق خوش آئند ہے اور اس سے ہمیں کورونا وائرس کی روک تھام اور مریضوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر یو ایچ ایس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکر م نے ٹرائل پروٹیکٹ کے تحت سرگودہا میں منتخب کئے گئے ڈاکٹرز میں وائٹ کوٹ بھی تقسیم کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow