یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ نیا مسودہ تیار

سرگودھا(محمد تہور بلال اصغر سے )حکومت کا پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ،پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کے ایکٹ کو تبدیل کرنے کیلئے نیا قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے ۔وائس چانسلرز سے سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار چھیننے کی تیاری مکمل کرلی گئی۔حکومت نے سنڈیکیٹ کو ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز کے ماتحت کرنے کا قانون بنا لیا ہے ۔سرکاری یونیورسٹیز میں ریٹائرڈ جج اور بیوروکریٹ چیئرمین سنڈیکیٹ کے عہدے پر تعینات ہوں گے ۔وائس چانسلرز کی کارکردگی جانچنے کا اختیار پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سپرد ہوگا ،پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سال میں دو مرتبہ وائس چانسلرز کی کارکردگی کا آڈٹ کریں گے ۔وائس چانسلرز اپنی مدت تقرری کے دوران سول سرونٹ تصور کیے جائیں گے ۔گورنر پنجاب بطور چانسلر یونیورسٹیز کیلئے الگ الگ پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کریں گے ۔وائس چانسلر کی تنخواہ مقرر کرنے کا اختیار سرچ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ پنجاب میں 1973ئسے لیکر 2019ء تک کے تمام یونیورسٹیز ایکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کی ہدایت پر یونیورسٹیز ایکٹ کا ترمیمی مسودہ تیار کیا گیاہے ۔فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا)کا کہنا ہے حکومت یونیورسٹیز کو سکولوں کی طرز پر چلا کر تباہ کرنا چاہتی ہے ۔تنظیم کے صوبائی صدر ڈاکٹر ممتاز انور کا کہنا ہے کہ مخصوص مافیا کے ایما پر حکومت غریب عوام کے ذہین بچوں سے اعلیٰ تعلیم کا حق چھیننا چاہتی ہے ،یونیورسٹیوں کے ترمیمی ایکٹ کے خلاف پنجاب کی تمام جامعات کے اساتذہ احتجاج کریں گے ۔ نئے قانون کے مطابق وائس چانسلرز سے سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار چھیننے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ سرکاری یونیورسٹیز میں ریٹائرڈ جج، بیوروکریٹ چیئرمین سنڈیکیٹ کے عہدے پر تعینات ہونگے۔ وائس چانسلرز کی کارکردگی جانچنے کا اختیار پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سپرد ہوگا۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سال میں دو مرتبہ وائس چانسلرز کی کارکردگی کا آڈٹ کریں گے۔وائس چانسلرز اپنی مدت تقرری کے دوران سول سرونٹ تصور کیے جائیں گے اور وائس چانسلر کو دباؤ میں رکھنے کے لئے پیڈا ایکٹ کے دائرے میں لایا جائے گا۔ گورنر پنجاب بطور چانسلر یونیورسٹیز کیلئے الگ الگ پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کریں گے جبکہ سینڈیکیٹ کے چار منتخب ممبران میں سے کم از کم دو خواتین ہوں گی۔ وائس چانسلر کی تنخواہ مقرر کرنے کا اختیار سرچ کمیٹی کو سپرد کیا جائے گا۔ 1973 سے لیکر 2019 تک کے تمام یونیورسٹیز کے ایکٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹیز کا ترمیمی قانون پنجاب اسمبلی منظوری کیلئے پیش ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow