کمشنر سرگودہا کیلئے دوہرا چیلنج گندم خریداری ٹارگٹ بھی ادھورا دوسری جانب گندم مراکز پر بے ضابطگیاں

سرگودھا(محمد تہور بلال اصغر سے) ایک طرف تو ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ گندم خریداری ہدف کو پورا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو دوسری طرف محکمہ فوڈ کے خریداری سنٹروں پر سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کا سلسلہ بدستور جاری اور باعث تشویش صورتحال اختیار کر چکا ہے، اس امر کا انکشاف انٹیلی جنس ادارے کی سول ایڈمنسٹریشن کو گزشتہ روزکو ارسال کردہ فائنڈنگ رپورٹ میں ہوا، جس میں انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مالی بد عنوانیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ مستقبل قریب میں حکومت کو آٹے کے بحران کا سامنا کرنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ خریداری مراکز میں کرپشن بنے رہے، بیشتر سنٹروں پر کاشتکاروں سے 9روپے کی بجائے 15روپے فی بوری ڈیلیوری چارجز وصول کیا گیا،زائد نہ دینے والوں کی ٹرالیاں ان لوڈ نہیں کی گئیں،جو بد دل ہو کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے،اسی طرح ان لوڈنگ اور ٹرالی صاف کرنے کیلئے فی بور ی اضافی چارجز وصول کرنا معمول رہا، نائب قاصد، کمپیوٹرآپریٹرسے لے کر فوڈ انسپکٹر تک ہر مرحلہ کے ریٹ مقرر ہیں،یہی نہیں رشوت دینے کے بعد کاشتکار سے فی ٹرالی پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک بطور انعام وصول کئے گئے،زیادہ نمی والی گندم کاریٹ جو کہ انتہائی کم ہوتا ہے متعلقہ سنٹر انچارج مقرر کرتا، اور غیر معیاری گندم خرید کر بھی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی، خریداری کا ہدف پورا کرنے کیلئے معیار اور میرٹ کے ساتھ ساتھ بے دریغ کرپشن کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے مستقبل قریب آٹے کے بحران کا قومی امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow