جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار


جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم

اسلام آباد (نثار احمد سے  )جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسٰی کی صدارتی ریفرنس کے خلاف اپیل کی سماعت مکمل ہونے پر اپنے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال نے جمعے کے روز کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ہم ججز سے مشاورت کے بعد آج شام چار بجے فیصلہ سنائیں گے۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے فیصلے میں قاضی فائز عیسیٰ کو جاری سپریم جوڈیشل کونسل کا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی اہلیہ کی جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان لینڈ ریونیو کمشنر کی جانب سے جسٹس فائز کی اہلیہ کو سات دن میں نوٹس جاری کیا جائے گا اور اس پر ساٹھ دن کے اندر کارروائی مکمل کی جائے گی۔
فیصلے کے وقت سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت نمبر ایک کچھا کھچ بھر ہہوا تھا۔ وفاق کے وکیل فروغ نسیم، اٹارنی جنرل خالد جاوید، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور دیگر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
فائز عیسیٰ کیس میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رضا ربانی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
قبل ازیں حکومت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ایف بی آر کا ٹیکس ریکارڈ سربمہر لفافے میں پیش کر دیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے مسز فائز عیسیٰ کی جانب سے گذشتہ روز جمعرات کو دکھائی گئی دستاویزات عدالت میں جمع کرا دیں۔سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کی۔
جمعے کو سماعت کے دوران حکومتی وکیل فروغ نسیم نے دستاویزات جمع کرائیں تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے، نہ ہی اس پر آرڈر پاس کریں گے، معزز جج کی اہلیہ دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، اس کی تصدیق کروائیں۔
منیر اے ملک نے جواب الجواب دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا۔
‘افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کے الزامات تھے، سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا۔ توقع ہے مجھے جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنا پڑے گی۔ جسٹس قاضی فائز نے اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow