سرگودہا کے ستر فی صد علاقوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں سرگودہا نے ھمیشہ ن لیگ کو ووٹ دیا مگر صاف پانی آج بھی اس کا مقدر نہ بن سکا

سرگودھا(محمدتہور بلال اصغر سے)شہر اور گردونواح میں پےنے کے پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ‘ پانی کے حصول کےلئے شہری دور دراز سے پانی لانے کےلئے مجبور ہیں اور منرل واٹر کے نام پر راجباہوں کا پانی فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر ہے اور 70 فیصد آبادی ڈسپوزل کے ناقص نظام کی وجہ سے سیوریج ملا پانی پی کر مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے صاف پانی کے میگا پراجیکٹ کے دعوے اور شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے وعدے شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے اور شہر کا زیر زمین پانی کڑوا اور نا قابل استعمال ہونے کے باوجود شہری پانی پےنے پر مجبور ہیں،مقامی انتظامیہ جعلی منرل واٹر کمپنیوں پر پابندی کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ کروا سکی‘ جس کی وجہ سے پےنے کے پانی کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے اور الیکشن کے دوران عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے اربوں روپے پراجیکٹ کے دعوے کرنے والے ارکان اسمبلی عوام سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں‘ عوامی حلقوں نے حکومت پنجاب سے ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے سرگودہا کا شمار پنجاب کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں سے مسلم لیگ کو ھمیشہ اکثریت حاصل رہی لیکن افسوس مسلم لیگ ن اپنی چار  حکومتوں کے باوجود سرگودہا کو پینے کا صاف پانی فراھم نہ کرسکی موجودہ الیکشن میں بھی ن لیگ نے سرگودہا سے کلین سویپ کیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow