ترقی کا راز تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد بلال

قوموں کی ترقی کا راز ان کی نوجوان نسل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔جب تک آپ اپنی آئندہ آنے والی نسل کی خاطر کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑیں گے۔آپ اپنے ملک و ملت کا حق نہیں ادا کرسکتے۔جس قوم نے بھی اپنی نوجوان نسل پر کام کیا۔اسی کی روایات اور تسلط پوری دنیا قائم پر ہوگیا۔آپ موجود دور میں اسرائیل کی مثال لے لیں۔وہ جس قدر اپنی آئندہ آنے والی نسل کی پرورش کررہے ہیں۔آپ کی سوچ ہے۔بچے کی پیدائش سے بھی پہلے جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ ماں کو خاص قسم کی کلاسیں دی جاتی ہیں۔تاکہ وہ بچے پر اثر انداز ہوں۔خاص خوراک دی جاتی ہے۔تاکہ بچے ذہین پیدا ہوں۔اور پیدائش کے بعد سے لے کر ایک مخصوص حد تک پڑھائی کروائی جاتی ہے۔اور پھر تجارت کا فن سیکھایا جاتا ہے۔اور ایک ٹارگٹ دیا جاتا ہے۔اور حاکمیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ہر بچے کے ذہن کو دیکھ کر اس کو اسی پروفیشنل کی تعلیم دی جاتی ہے۔اس سب کا ثمر پوری دنیا کے سامنے ہے۔اگرچہ اسرائیل رقبے و آبادی کے لحاظ سے ہمارے کئی شہروں سے چھوٹا ہے۔لیکن پوری دنیا کی معاشرت پر قابض ہے۔اور پوری کے میڈیا و سیاست کے پیچھے کہیں نہ کہیں اسی کا ہاتھ ہے۔ان کا مقصد اپنے نوجوانوں کو میڈیا اور سیاست جیسے امور سے دور رکھ کر انکی ایک خاص ماحول پرورش کرنا اور جبکہ باقی دنیا کے نوجوان کو ایسے امور میں الجھا کر رکھنا۔تاکہ وہ اپنے ملک و مذہب کے بارے شکوک وشبہات کا شکار رہیں۔اپنے مستقبل پر فوکس نہ کر سکے۔اور آئندہ آنے والے جدید دور میں ہمارے محکوم بن کر رہیں۔اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہمارے ہی نوجوان کو ہمارے ہی خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔اور ہم استعمال ہورہے ہیں۔اور عجیب بات ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔اور اگر کوئی احساس کروانا چاہتا ہے تو اسکو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔وجہ ہماری ذہن سازی نہی۔مذہب سے دوری ۔۔۔

مذہب کے متعلق شکوک و شبہات ۔

اپنی روایات اور اقدار سے دوری ۔۔

بڑوں کی بات پر عدم اعتماد ۔۔

غیروں کو اپنا ہمنواہ اور خیر خواہ سمجھنا ۔۔ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے یہود و نصاری شروع دن سے کوشش کر رہے ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لئے انھوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپوئنٹ کیاآج ہی نیت کریں۔اور اپنا مقصد اپنے سامنے رکھیں۔اور اپنی طاقت کو پہنچانیں۔اور موم بتی طبقے(لبرل) کے جھانسے سے باہر آئیں۔اپنے ملک و ملت کا سوچیں۔ان کو آپ کی ضرورت ہے۔ آپ ان کا قمیتی سرمایہ ہیں۔

جن عظیم لوگوں کا نام تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھا ہے۔انھوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی بازی لگا دی۔طارق بن زیاد نے کشتیاں جلاد دی۔کہ واپسی کا کوئی سوچے ہی نہیں۔صرف اپنے مقصد پر فوکس ہو۔سلطنت عثمانیہ کے آخری طاقت ور حکمران سلطان عبدالحمید ثانی نے جسطرح اپنی نوجوان نسل پر محنت کی۔حالانکہ ان دنوں میں یورپی معاشرہ جدت و آزادی کا جھسا دےکرنوجوان نسل کو ورغلا رہا تھا۔آج کے نوجوان کو بھی کسی ایسے قائد کی ضرورت ہے جو ڈوبتی نہیا کو پار لگا دے۔ہمیں اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔اور تھوڑا نہیں پورا سوچنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow