پی ایم ڈی سی کی جگہ پی ایم سی کو قبول نہیں کریں گے ڈاکٹر سکندر وڑائچ

 

سرگودھا (شفیق طاہر  ) پی ایم اے سرگودھا کے صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ ‘ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فواد حسین اور پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر غلام حسین فیضی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد آصف چوہدری اپنے ایک مشترکہ بیان میں وفاقی حکومت کی طرف سے پی ایم ڈی سی کی جگہ پی ایم سی بنانے کی دوبارہ کوشش کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ختم کرنے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کیونکہ اس کونسل میں پاکستان بھر کی ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز و ڈینٹل سرجن کا ریکارڈ موجود ہے اور ان میں سے کافی تعداد میں ڈاکٹرز ملک سے باہر بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان رہنماﺅں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت میں موجود چند افراد پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو فائدہ پہنچانے کیلئے پی ایم ڈی سی کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو کہ ڈاکٹرز برادری اور مستقبل کے ڈاکٹرز کا مستقبل بھی خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں اور یہ بات کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ ان رہنماﺅں نے مزید کہا کہ گزشتہ 70 سالوں میں محکمہ صحت کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ ہر حکومت نے محکمہ صحت کو تجربہ گاہ بنا کر نئی نئی ناکام پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔ جس کی وجہ سے آج تک محکمہ صحت میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آسکی۔ بلکہ اگر دیکھا جائے انہیں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے محکمہ صحت ترقی نہیں کر سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت بھی نت نئی کمیٹیاں‘ ایڈوائزری بورڈز‘ پی ایم ڈی سی کی تحلیل جیسے اقدامات اٹھا کر محکمہ صحت کو اندھیرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جمہوری حکومتیں ہمیشہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتی ہیں۔ لیکن موجودہ حکومت ایسے پالیسیاں ترتیب دی رہی ہے جو کہ عوام الناس کی بجائے اشخاص کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور اس قسم کی حرکات پاکستان کی ڈاکٹرز برادری کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ ان رہنماﺅں نے مشترکہ طور پر وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کو پی ایم سی میں تبدیل کرنے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ ورنہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن و ڈاکٹرز کی دیگر تنظیمیں راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow