پنجاب پولیس ویلفئیر کے پانچ ہزار کیسسز ڈی پی او اور آر پی اوز کے دفتروں میں دھکے کھانے پر مجبور آئی جی پنجاب نوٹس لیں

سرگودھمحمد تہور بلال اصغر سے )پولیس ویلفیئر کے دعوے صرف باتوں کی حد تک محدود، ریجنز اور اضلاع کی جانب سے تمام کیسز حل کرنے کے دعویٰ کا پول ویلفیئر مینجمنٹ سسٹم نے کھول دیا، حاضر ڈیوٹی اہلکاروں، شہدا، دوران ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ خوار ہوگئے، سکالر شپ، جہیز فنڈ، تدفین کے اخراجات سمیت دیگر ویلفیئر کے ساڑھے 5 ہزار کیسز ڈی پی اوز اور آر پی اوز کے دفاتر میں زیر التوا پڑے ہیں۔ پولیس اہلکاروں، شہداء اور اُن کے بچوں کی ویلفیئر کے حوالے سے افسروں کی جانب سے کئے گئے دعوے جھوٹے نکلے، آئی جی کے ویلفیئر مینجمنٹ سسٹم نے افسروں کی خانہ پوری کا پول کھول دیا، آر پی اوز، ڈی پی اوز نے پولیس ویلفیئر کے تمام کیسز حل کرنے کی رپورٹ دی تھی لیکن اپنے ہی سسٹم نے افسروں کی 2 نمبری کا کچا چٹھا کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا ہے، سسٹم میں پولیس ویلفیئر کے ساڑھے 5 ہزار کیسز زیر التوا ہونے پر ضلعی افسروں کا سفید جھوٹ پکڑا گیا ہے، اہلکاروں اور شہداء کے بچوں کیلئے سکالرشپ کے 4 ہزار، مالی امداد کے 290 کیسز، شہداء کی بچیوں کے جہیز کے 700 اور تدفین کے اخراجات کیلئے 90 کیسز زیرالتوا ہیں۔آئی جی پنجاب نے سرگودھا سمیت پنجاب بھر کے آر پی اوز ، ڈی پی اوز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے پولیس کے اہل خانہ کی ویلفیئر نیکی اور اہم ترین فریضہ ہے، تمام ریجنل افسر شہداء کے اہل خانہ کی ویلفیئر کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں، وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کے اہلخانہ کا خیال رکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow