تحریر۔۔۔ڈاکٹر زوہیب لیاقت، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سرگودہا

*صحت مند سرگودھا ڈویژن*

 

بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ملکی حالات پر لکھوں یا کرونا پر؟ غربت سے ہونے والی خود کشیوں پر پیرا کشی کروں؟ یا کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنے والے سرمایہ داروں اور ان کی عیاشیوں سے پردہ اٹھاﺅں؟ انہی سوچوں میں گم تھا کہ خیال آیا کہ اپنے سرگودھا ڈویژن پر ہی قلم کشائی کی جائے، میرا تعلق سرگودھا ڈویژن سے ہے جس کے چار اضلاع سرگودھا، خوشاب، بھکر، میانوالی ہیں جن کی کل آبادی 8.181 ملین ہے۔ سرگودھا وہ ضلع ہے جس سے الیکشن لڑ کر دو ارکان اسمبلی وزارت عظمی کے منصب تک پہنچے، میاں نواز شریف1988 میں جب وزیر اعظم بنے تھے تو انہوں نے کوٹمومن کے حلقہ این اے 48 سے الیکشن لڑا تھا، دوسری بار 2013 میں نواز شریف این اے 92 سے الیکشن لڑ کر وزارت عظمی کے منصب تک پہنچے۔ دوران الیکشن میاں نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ جیت کر سرگودھا کی نشست رکھیں گے اور یہاں اپنا کیمپ آفس قائم کریں گے مگر ایسا نہ ہوا اور میاں نواز شریف نے جیت کر این اے 92 کی نشست چھوڑ کر این اے 120 کی نشست پاس رکھی تھی اور وہ وزیر اعظم بن گئے تھے، پھر اس نشست پر ضمنی الیکشن ہوا تھا، سرگودھا ڈویژن کے ضلع میانوالی سے 2018 کے الیکشن میں محمد عمران خان دوسری بار ایم این اے بن کر وزیر اعظم کے منصب پر پہنچے اور تا وقت تحریر وزارت عظمی پر فائز ہیں۔ سرگودھا ڈویژن میں دفاعی اور فضائی لحاظ سے سب سے اہم مصحف ایئر بیس ہے، اس ایئر بیس کے جوانوں نے 1965ءکی جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کئے تھے اور اسے شکست سے دوچار کیا تھا، اسی بناءپر اسے ہلال استقلال سے نوازا گیا تھا۔ جدید تعلیمی سہولتوں سے آراستہ سرگودھا یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے سرگودھا ڈویژن کی شان و شوکت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ان تعلیمی اداروں سے اعلی تعلیم حاصل کر کے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں، جو سرگودھا ڈویژن کی ذرخیز مٹی کے ثمر ہیں، میرا تعلق صحت کے شعبہ سے ہے اور میں نے روس کی کازان سٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، میں جب پاکستان اور روس کے ہیلتھ سسٹم کا موازنہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری ڈویژن جس کی آبادی 8.181 ملین ہے میں طبی سہولتوں اور علاج معالجہ کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ سرگودھا، خوشاب، بھکر، میانوالی کے مریضوں کی اکثریت کو علاج معالجہ کیلئے لاہور، اسلام آباد کے شہروں کا رخ کرنا پڑتاہے حالانکہ سرگودھا ڈویژن میں ایک سرکاری اور دو پرائیویٹ میڈیکل کالج ہیں، جن میں سرگودھا میڈیکل کالج، رائے میڈیکل کالج ، نیازی میڈیکل کالج شامل ہیں، جہاں الائیڈ فیکلٹی یا تو ہے ہی نہیں یا صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک یہاں سہولتیں ہیں لیکن حکام سب چھا کی رپورٹ دینے میں مصروف ہیں۔

میں یہاں یہ بھر عرض کرتا چلوں کہ یہاں ایک ڈاکٹر محنت کر کے میڈیکل کالج بنا لیتا ہے لیکن پوری ڈویژن کی سیاست مل کر ایک سرکاری میڈیکل کالج کی فیکلٹی پوری نہیں کروا پاتی، مطلب جیسے بیرون ممالک میں ہر ایک ڈیپارٹمنٹ سے پڑھنا ہوتا ہے اس کے مطابق یہاں آدھے سبجیکٹ بڑے سبجیکٹ میں ضم ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرگودھا میڈیکل کالج کے طالبعلموں کا حق نہیں کہ یہاں فیکلٹی پوری ہو اور انہیں بہتر تعلیم و تربیت ملے تو وہ عوام کی خدمت کر سکیں؟ کیا خوب ہوتا کہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں حکومت وقت ایک ٹریژری کیئر ہسپتال قائم کرتی جہاں دل کی سرجری، بچوں کی سرجری اور دماغ کی سرجری کیلئے انتظام ہوتا تو میرے شہر اور ڈویژن کے مریضوں کی اکثریت کو علاج معالجہ کیلئے لاہور نہ جانا پڑتا، سرگودھا کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ یونٹ الگ الگ کام کرتے ہیں، کیا خوب ہو کہ یہاں ایف سی پی ایس کے ساتھ ایم سی پی ایس اور دوسرے شارٹ کورسز کی کلاسز ہوتیں تو یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے اپنے ڈویژن کے لوگوں کی خدمت کرتے اور عوام کا عطائی ڈاکٹروں سے چھٹکارا ہو جاتا۔ 

مگر لگتا ہے کہ سرگودھا ڈویژن کے سیاسی قائدین ایسا ہونا نہیں دینا چاہتے، شاید ڈویژن کی بااثر شخصیات ڈاکٹرز، بزنس مین اور دیگر کمیونٹی نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ اچھی صحت کتنی بڑی نعمت ہے اور صحت کی بنیادی سہولتیں عوام کا حق بھی ہیں جو ایک مخصوص طبقہ کی وجہ سے عوام کو نہیں مل پا رہی، حکومت سرگودھا ڈویژن سمیت پنجاب بھر میں ایم ٹی آئی سسٹم لانا چاہتی ہے شاید ٹھیک چاہتی ہے، ویسے نہ بھی لاتی تو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ سسٹم تو پہلے بھی موجود ہے بس اس سسٹم کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک مسئلہ نہیں مسئلے ہی مسئلے ہیں، بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز با امر مجبوری ہڑتال کردیتے ہیں جس سے ہسپتالوں میں کام بند ہو جاتا ہے، پھر کوئی حکومتی نمائندہ یا انتظامی افسر مذاکرات کر کے ینگ ڈاکٹرز کو ان کے مسائل کے حل کا لالی پاپ دے دیتا ہے اور عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار ینگ ڈاکٹر پھر سے کام شروع کر دیتے ہیں، یہ سب ٹھیک ہے یا غلط اس کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے، ہاں تو بات ہو رہی تھی سرگودھا ڈویژن کی جو کہاں سے کہاں نکل گئی، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب حالات کچھ اس طرح ہوچکے ہیں کہ ہمیں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہر شخص کو ہیلتھ سسٹم سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 

*تحریر: ڈاکٹر زوہیب لیاقت، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتالسرگودھا*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow