ملک گیر ماتمی احتجاج نے متفقہ قرار داد حکومت کے سامنے رکھ دی کسی گروہ وارانہ بل کو قبول نہیں کریں گے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

 

اسلام آباد ۔۔۔۔۔ مولانا غضنفر عباس کاظمی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک گیر ماتمی احتجاج اور ان پیش کی گئی قرار داد کے پیچھے ملک بھر کے اہل تشیع کھڑے ہوگئے

سفیرحسینیت حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت اور پاکستان کی نظریاتی اساس پر ہونے والے وار کے رد عمل میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی کال پر منعقد ہونے والا آج کا یہ ماتمی احتجاجی اجتماع پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے تحفظ بنیاد اسلام بل کو مسترد کرتا ہے جو قرآن و سنت کے منافی اور پاکستان کے آئین پرخوفناک حملہ ہے آئین کے آرٹیکل 227 کا واشگاف فیصلہ ہے کہ قرآن و سنت کی وہی تعبیر ہوگی جو ہرمسلک کے نزدیک معتبر ہوگی جبکہ اس نام نہاد بل کا مقصد آئین کی روح پامال کرنا اور دوقومی نظریے کو سبوتاژ کرکے پاکستان کے ازلی دشمنوں کے نظریے کو متعارف کرانا ہے ایک بیوروکریٹ اور غیر آئینی غیر نمائندہ متنازعہ بورڈ کو لامحدود اختیار دے کر اسلامی مسالک کے عقائد کے فیصلے کرنا دین سے مذاق ہے ۔

ہمارا یہ احتجاج کسی جماعت مسلک کے خلاف ہر گز نہیں بلکہ اس تنگ نظر سوچ کے خلاف ہے جودوقومی نظریے کو سبوتاژکرکے پاکستان کو گروہی سٹیٹ بنانا چاہتی ہے ۔ ایک متعصبانہ بل کیلئے اسلام کا لفظ استعمال کرنا آئمہ اہلبیتؑ کو زہر کے جام پلانے اور آئمہ اہلسنت حضرت امام ابو حنیفہؒسے امام احمد بن حنبلؒ تک کو قید وبند میں رکھنے والے اموی و عباسی حکمرانوں کا شیوہ ہے، مصطفویوں ؐاور حسینیوں ؑ کے دیس میں ایسا ایجنڈا کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائیگا۔

ایسے وقت میں جب محرم الحرام کا آغاز ہونے والا ہے ایک ایسا بل لانچ کرنا جو تضادات اور تنازعات کو اپنی گود میں لئے ہوئے ہے پاکستان کو فتنہ و فساد میں جھونکنے کی سازش ہے ۔اس بل کی رو سے میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورمجالس عزا کے اشتہارات تک کو متنازعہ بنادیا گیاہے، اس بل کے مضمرات محض علیہ السلام یا سلام اللہ علیھا تک محدود نہیں اس بل کے ذریعے انتشار کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک ایسا بل جس کی رو سے دنیاکے کسی ملک میں ہونے والی تحقیق کو پاکستانی طلباء کے سامنے لانا ناممکن ہو جائے گا کوئی حاجی اپنے ساتھ مکہ و مدینہ سے قرآن نہیں لا سکے گا کوئی زائر کربلا و نجف سے سیرت آئمہ طاہرین ؑ اور زیارات کی کتاب نہیں لا سکے گویا اس بل پر عمل درآمد اقبال و قائد اعظم کے تصورات کے بر عکس پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے ۔مکتب تشیع اور اہلسنت کی اکثریت کا یہ خدشہ بے جا نہیں کہ اس بل کی رو سے نہج البلاغہ سے لیکر اہلسنت کی غنیۃ الطالبین تک تمام کتب پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو روانڈا بنانے کا مکروہ منصوبہ پاکستان کے شیعہ سنی عوام کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آج کا اجتماع سوال کرتا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اس متنازعہ بل کو عجلت میں منظور کروا کر بھی رولز آف بزنس کی خلاف ورزی کیوں کی آخر کونسا امر مانع تھا کہ بحث و تمحیص کے بغیر ایسا بل منظورکرانے کی جلدی کی گئی ، جمہوریت کو پامال کرکے ڈکٹیٹر کا خواب پورا کرنے کی مذموم کوشش پاکستان کے غیور عوام کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

اس بل کی آڑ میں بعض عناصر شیعہ سنی بردران میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مشاہیر اسلام کی عزت و تکریم شیعیان حیدر کرار کا جزو ایمان ہے ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ گذشتہ چار دہائیوں سے ام المومنین حضرت عائشہ و حفصہ ؓ سمیت9 امہات المومنین ہزاروں صحابہ کرام نبی کریم ؐ کے والدین گرامی کی شان میں ہونے والی سب سے بڑی توہین ان کے مزارات کی مسماری کے خلاف آواز احتجاج بلند کررہی ہے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒکے مزار کی توہین پر سب سے پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے آواز بلند کی کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ کالعدم جماعتوں کے لیڈر اپنے آباء کی قبروں پر اشتعال انگیزی سے لبریز نذرانے پیش کر سکتے ہیں لیکن رسول کریمؐ کی اولاد اہلبیت اطہارؑ، صحابہ کبارؓاور امہات المومنین ؓکی قبروں پر کسی مسلمان کو پھول چڑھانے کی اجازت نہیں ۔

آج کا یہ اجتماع قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے دیرینہ موقف کو دہراتا ہے کہ فرقہ مسلک زبان سمیت کسی بھی عصبیت کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لینے کو ممنوع قرارد یا جائے ، اگرچہ عصبیت پسند جماعتوں کو پاکستان کی عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے لیکن اس کے باوجود کافر کافر کہنے والے ایک آدھ ممبر کے اسمبلی میں جانے کی وجہ سے جمہوریت پسندوں اور انسانیت دوستوں کا پورا’ جل ‘گند ا ہو رہا ہے ۔

یہ اجتماع تمام اہل سیاست کو متوجہ کرتے ہوئے جو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کالعدم جماعتوں کو دائیں بائیں بٹھاتے ہیں انہیں محبت بھرے فون کرتے ہیں انہیں اتحادوں میں شریک کرتے ہیں حتی کہ انہیں نظریاتی کونسل جیسے آئینی اداروں کی زینت بنادیا گیا ہے ، ارباب اقتدارو حزب اختلاف سے مطالبہ کرتا ہے کہ اے پاکستان پر حکومت کرنے کے خواہشمندو! خدارا اپنے مفادات کیلئے پاک فوج اور عوام کے 70ہزار شہیدوں کے لہو سے غداری نہ کرواتنا خون تو بھارت نے پاکستان کے فوجیوں کا نہیں بہایا جتنا بیرونی پیسے پر پلنے والے دہشت گردوں نے بہایا ہے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کی ہر شق پر عمل کیا جائے اور نام بدل کر کام کرنے والی تنظیموں پر گرفت کی جائے ، ہر مذہبی جماعت کے آمدن خرچ کا حساب لیا جائے سب سے پہلے تحریک نفاذفقہ جعفریہ اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتی ہے ۔

آج کا یہ اجتماع حکومت کو بتانا چاہتا ہے کہ قوم اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگی جب تک اس بل کو مسترد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جائے گاجس میں حکومت یہ واضح کرے گی کہ آئندہ کبھی ایسا بل نہیں لایا جائے گا ۔ہم عوام کو بھی یقین دلاتے ہیں کہ جب تک یہ بل آئینی طریقہ کار کے مطابق مسترد نہیں کیا جاتااس وقت تک تحریک نفاذ فقہ جعفریہ چین سے نہیں بیٹھے گی ۔ آج کا یہ ملک گیر احتجاج پہلے قدم کے طور پر ایک علامتی احتجاج ہے آئندہ اس سے بڑا احتجاج کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں ۔

آج کا یہ اجتماع اپنے عزم کو دہراتا ہے کہ مکتب تشیع قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی پالیسی کے مطابق تمام مسالک مکاتب ہی نہیںدیگر مذاہب کے مقدسات کے احترام پربھی کامل یقین رکھتاہے ہم اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط نہیں کرنا چاہتے لیکن کبھی کوئی دوسرا عقیدہ بھی اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔شیعہ سنیوں نے مل کر پاکستان کو سوچا، مل کر بنایا اور اپنے عقائد و نظریات پر قائم رہتے ہوئے مل کر ہی پاک وطن کو اندرونی بیرونی دشمنوں سے بچائیں گے اور دو قومی نظریے پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow